خوشامدی کی سزا.
===============
ایک عراقی عورت نے آپ کے دروازے پر حاضر ھوکر پوچھا
کیا دروازے پر کوئی دربان ھے
نہیں .
اگر تو اندر جانا چاھتی ھے تو جاسکتی ھے لوگوں نے اسے بتایا
وہ اندر داخل ھوگی اور آپ کی بیوی فاطمہ پاس پہنچی فاطمہ کے ھاتھ میں اس وقت روئی تھی جسے وہ کات رھی تھیں یہ ان کو سلام کرکے پاس بیٹھ گی پھر نگاہ اٹھا کر ادھر ادھر دیکھاف جیسے کوئی چیز تلاش کررھی ھو لیکن کوئی چیز نظر ناں آئی آخر اس نے کہا
میں تو اس لیے آئی تھی کہ اپنے ویراں گھر کے لیے کچھ مانگوں تاکہ وہ آباد نظر آے لیکن بھلا اس ویران گھر سے میرا گھر کسی طرح آباد ھو سکتا ھے یہ سن کر فاطمہ بولیں
تجھ جیسی عورتوں کا گھر آباد کرنے کی وجہ سے اس کا گھر خالی ھے
اسوقت عمر تشریف لے آے اور اس عورت سے پوچھا کس لیے آئی ھو
میں ایک عراقی عورت ھوں میری پانچ جوان بچیاں ھیں جن کی غربت کی وجہ سے کہیں سے شادی کا پیغام نہیں آتا بس اس لیے حاضر ھوئی ھوں اس نے کہا
آپ نے قلم دوات اور کا غذ منگوا کر عراق کے حاکم کو اس کے بارے میں لکھا آپ نے ایک ایک بچی کا نام پوچھا اور اسکا وظیفہ مقرر کیاھر ایک کے وظیفے پر وہ عورت اللہ کا شکر ادا کرتی رھی جب آپ چار بچیوں کا وظیفہ مقرر کرچکے تو اسقدر خوش ھوئی کہ اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجاے آپ کے لیے دعا کرنے لگی آپ نے اپنا ھاتھ روک کر فرمایا
ھم اس وقت تک بچیوں کا وظیفہ مقرر کرتے رھے جب تک تو اللہ کا شکر ادا کرتی رھی شکر کا اھل تو وھی ھے اب تم نے اس کا شکر کی بجاے میرا ذکر شروع کردیا ھے اس لے اب میں یہ کام نہیں کرسکتا اپنی چاروں بچیوں سے کہہ دینا کہ وہ پانچویں کو اپنے حصے میں سے دیں جو انہیں اللہ تعالی نے دیا ھے.
سبق
عمربن عبدالعزیز کے اس چھوٹے سے واقعہ سے ھمارے حکمرانوں کا کردار سامنے آجاتا ھے جس طرح وہ اپنے اردگرد خوشامدی لوگوں کو نوازتے ھیں اور اللہ کے احکامات کو نظر انداز کرتے ھیں۰
دعا ھے اللہ ھمارے حکمرانوں کو عقل دے اور ھم کو اپنے خاص بندوں میں شامل کرلے
امین
===============
ایک عراقی عورت نے آپ کے دروازے پر حاضر ھوکر پوچھا
کیا دروازے پر کوئی دربان ھے
نہیں .
اگر تو اندر جانا چاھتی ھے تو جاسکتی ھے لوگوں نے اسے بتایا
وہ اندر داخل ھوگی اور آپ کی بیوی فاطمہ پاس پہنچی فاطمہ کے ھاتھ میں اس وقت روئی تھی جسے وہ کات رھی تھیں یہ ان کو سلام کرکے پاس بیٹھ گی پھر نگاہ اٹھا کر ادھر ادھر دیکھاف جیسے کوئی چیز تلاش کررھی ھو لیکن کوئی چیز نظر ناں آئی آخر اس نے کہا
میں تو اس لیے آئی تھی کہ اپنے ویراں گھر کے لیے کچھ مانگوں تاکہ وہ آباد نظر آے لیکن بھلا اس ویران گھر سے میرا گھر کسی طرح آباد ھو سکتا ھے یہ سن کر فاطمہ بولیں
تجھ جیسی عورتوں کا گھر آباد کرنے کی وجہ سے اس کا گھر خالی ھے
اسوقت عمر تشریف لے آے اور اس عورت سے پوچھا کس لیے آئی ھو
میں ایک عراقی عورت ھوں میری پانچ جوان بچیاں ھیں جن کی غربت کی وجہ سے کہیں سے شادی کا پیغام نہیں آتا بس اس لیے حاضر ھوئی ھوں اس نے کہا
آپ نے قلم دوات اور کا غذ منگوا کر عراق کے حاکم کو اس کے بارے میں لکھا آپ نے ایک ایک بچی کا نام پوچھا اور اسکا وظیفہ مقرر کیاھر ایک کے وظیفے پر وہ عورت اللہ کا شکر ادا کرتی رھی جب آپ چار بچیوں کا وظیفہ مقرر کرچکے تو اسقدر خوش ھوئی کہ اللہ کا شکر ادا کرنے کی بجاے آپ کے لیے دعا کرنے لگی آپ نے اپنا ھاتھ روک کر فرمایا
ھم اس وقت تک بچیوں کا وظیفہ مقرر کرتے رھے جب تک تو اللہ کا شکر ادا کرتی رھی شکر کا اھل تو وھی ھے اب تم نے اس کا شکر کی بجاے میرا ذکر شروع کردیا ھے اس لے اب میں یہ کام نہیں کرسکتا اپنی چاروں بچیوں سے کہہ دینا کہ وہ پانچویں کو اپنے حصے میں سے دیں جو انہیں اللہ تعالی نے دیا ھے.
سبق
عمربن عبدالعزیز کے اس چھوٹے سے واقعہ سے ھمارے حکمرانوں کا کردار سامنے آجاتا ھے جس طرح وہ اپنے اردگرد خوشامدی لوگوں کو نوازتے ھیں اور اللہ کے احکامات کو نظر انداز کرتے ھیں۰
دعا ھے اللہ ھمارے حکمرانوں کو عقل دے اور ھم کو اپنے خاص بندوں میں شامل کرلے
امین
@-)
ReplyDelete:-b
Delete:d
ReplyDelete