میں سو رہا تھا، مؤذن نے آذان دی۔
ضمیر نے کہا، اٹھو نماز پڑھو۔ سُستی نے کہا، ابھی نیند پوری کر لو۔
سُستی اور ضمیر میں مقابلہ ہوا، آخرکار سُستی جیت گئی اور میں پھر سو گیا۔
تھوری دیر بعد میری پھر آنکھ کھلی۔ ضمیر نے پھر کہا، اٹھو نماز پڑھو۔ سُستی پھر راستے میں دیوار بن گئ۔
ضمیر اور سُستی میں زبردست جنگ ہوئی، آخرکار سُستی سرنگوں ہوئی، میں اٹھا، وضو کیا، گھڑی دیکھی تو فجر کی نماز کا وقت گذر گیا تھا۔
پھر میں اپنے باغ میں جا کر ٹہلنے لگا۔ اچانک میری نظر شبنم میں نہائے ہوئے ایک گلاب پر پڑی۔ میں نے گلاب کو سونگھا تو اسے معطر پایا۔
مجھے ایسے لگا جیسے گلاب کہہ رہا ہو۔
"دیکھو میری ساری رات اپنے پروردگار کی عبادت میں گزری اور اس نے خوشبو سے میرا دامن بھر دیا۔"
جب میں نے اپنے آپ کو سونگھا تو خود کو خوشبو سے خالی پایا
0 تبصرے:
Post a Comment
اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔